گوہاٹی، 26؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف منفی ٹویٹ کی پاداش میں آسام پولیس کے ذریعہ گجرات سے گرفتار کئے گئے رکن اسمبلی جگنیش میوانی کو پیر کو کوکرا جھار کی عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنایا مگر ضمانت ملتے ہی آسام پولیس نے انہیں نئے کیس میں دوبارہ گرفتار کر لیا ۔
انہیں کوکرا جھار سے ۳؍ کلومیٹر دور بارپیٹا منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس نے حالانکہ یہ وضاحت کے ساتھ یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس نئے کیس میں گرفتار کیا جارہاہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے کیس میں ضمانت ملنے کے بعد میوانی نے افسران پر حملہ کیا جس کے کیس میں انہیں گرفتار کیاگیاہے۔
یاد رہے کہ میوانی کوجمعرات کو پالن پور سے آسام پولیس نے آسام کے کوکرا جھار ضلع کے ایک بی جےپی لیڈر کی شکایت پر گرفتار کیاتھا۔ میوانی کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے گجرات دورے کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیاتھا کہ وہ گجرات کے کھمبات، ہمت نگر اور ویراول میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف امن کی اپیل کریں۔ میوانی کا ٹویٹ اس طرح تھا کہ ’’گوڈسے کو اپنا آرادھیہ دیو ماننے والے وزیراعظم ۲۰؍ تاریخ کو گجرات دورے پر ہیں،ان سے اپیل ہے کہ گجرات میں ہمت نگر، کھمبات اور ویراول میں جو قومی حادثے ہوئے ان کے خلاف شانتی اور امن کی اپیل کریں۔
اس ٹویٹ کی بنیاد پر جگنیش میوانی کو جو رکن اسمبلی ہیں،ا س طرح گرفتار کیا گیا جیسے کوئی عام مجرم ہو۔ رات کے اندھیرے میں اچانک آسام پولیس گجرات پہنچی اور میوانی کو گرفتار کرکے لے گئے۔ میوانی کی اس طرح گرفتاری پر شدید تنقیدیں ہورہی ہیں مگر آسام پولیس ان تنقیدوں کو خاطر میں نہیں لائی۔ میوانی نے اپنی گرفتاری کو ’’انتقامی سیاست‘‘ قرار دیتے ہوئے پیر کو میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ ’’یہ بی جےپی اور آر ایس ایس کی سازش ہے۔ وہ یہ سب میری شبیہ خراب کرنے کیلئےکررہے ہیں۔ وہ منصوبہ بند طریقے سے یہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے روہت ویمولا اور چندر شیکھر آزاد کے ساتھ بھی یہی کیا ۔ا ب وہ مجھے نشانہ بنارہے ہیں۔‘‘